ارنسٹ ہیمنگوے

امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ کہانی کار اور ناول نگار ارنسٹ ہمنگوے کی تاریخ پیدائش ١٢ جولائی ١٨٩٩ء ہے۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر ایڈمنڈ کلیئرنس تھا۔ ہمنگوے زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ انھوں نے ١٩١٧ء میں ہائی اسکول کی سند حاصل کی۔ وہ اونچے قد کے جسیم نوجوان تھے۔ انھیں باکسنگ، فٹ بال، شکار اور مہم جوئی سے رغبت تھی۔ قدرت نے انھیں بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں بھی عطا کی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم چھڑی تو والد کی مرضی کے خلاف فوج میں شمولیت کے لیے جا پہنچے۔ مگر کسی کوتاہی کے سبب مسترد کیے گئے اور ریڈ کراس ایمبولینس کے دستے کے ساتھ اٹلی کے محاذ پر پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے انسانوں کی درندگی کے بدترین مظاہر دیکھے۔ انھیں ادھڑی ہوئی لاشوں اور جلے ہوئے گوشت کے لوتھڑوں کو محاذ سے اسپتال پہنچانے کا دل سوز فریضہ سر انجام دینا پڑا۔ فرائض کی بجا آوری کے دوران مشین گن کی گولیوں سے زخمی ہوئے تو ایمبولینس ڈرائیور کی ڈیوٹی سے دست بردار ہونا پڑا۔ دوران علاج ایک خوبرو نرس کے عشق میں گرفتار ہو گئے مگر اسے رومانیہ کا ایک افسر لے اڑا۔ ١٩١٩ء میں امریکہ واپس آئے اور کینیڈا کے اخبار ’’ٹورنٹو سٹار‘‘ میں بطور نامہ نگار اور فری لانس صحافی کام کرنے لگے۔ ان تمام مصروفیات کے دوران افسانہ نگاری اور ناول نویسی کا شغل بھی جاری رکھا۔ارنسٹ ہمنگوے نے چار خواتین سے شادیاں کیں جن سے ان کے تین بیٹے تولد ہوئے۔ ان کے ١٢ ناول اور کہانیوں کے ١٢ مجموعے شائع ہوئے۔ متفرق موضوعات پر ٩ کتابوں کے خالق ہیں۔ ان کی کئی کہانیاں اور ناولوں پر فلمیں بنیں جن میں ’’سنوز آف کالی من جارو‘‘، ’’اے فیئر ویل نو آرمز‘‘ اور ’’اولڈ مین اینڈ دی سی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ وہ زندگی کی بنیادی حقیقتوں کا گہرا شعور رکھنے والے ادیب تھے۔ جیمزجوائس نے ہمنگوے کے بارے میں ایک مرتبہ کہا تھا: ’’اس نے زندگی اور ادب کے درمیان حائل پردے کو کم کر دیا ہے جس کی کوشش ہر تخلیق کار کرتا ہے۔ کیا آپ نے ’’صاف اور روشن جگہ‘‘ پڑھی ہے ؟...... یہ ایک شاہکار ہے۔ بلاشبہ یہ لکھی گئی کہانیوں میں سے ایک بہترین کہانی ہے۔‘‘
وہ حقیقت نگار تھے مگر رومانویت کو کلی طور پر رد نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی تحریروں میں ایسے مثبت کردار بطور ہیرو پیش کرتے ہیں جو فطرتاً مہم جو ہیں اور خطرا سے کھیلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے انسانوں کو بڑے شاندار انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے بیانیہ میں بظاہر سادگی اور کفایت لفظی ہے مگر اس سہل انداز تحریر کی نقل کرنا آسان نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے اپنے انداز سے ملکی اور غیر ملکی افسانہ نگاروں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔ ان کی ادبی صلاحیتوں کے اعتراف میں انھیں ١٩٥٣ء میں پولٹزرپرائز اور ١٩٥٤ء میں ادب کا نوبل انعام عطا کیا گیا۔ مگر وہ شدید علالت کے باعث انعام وصول کرنے سویڈش اکیڈمی ، سٹاک ہوم نہ جا سکے۔ بدقسمتی سے وہ شکاری مہمان کے دوران دوبار زخمی ہوئے تھے۔ دایاں کندھا، بازو اور بائیں ٹانگ متاثر ہوئی۔ بائیں کان کی سماعت اور بائیں آنکھ کی بینائی بھی عارضی طور پر جاتی رہی۔ ایک بار آتشزدگی کے سبب چہرہ جھلس گیا۔ ہمنگوے نے ٦٢ برس کی عمر میں سر پر شاٹ گن کا فائر کرکے خودکشی کا ارتکاب کیا تھا۔ خودکشی کی تاریخ ٢ جولائی ١٩٦١ء ہے۔